سرٹیفائیڈ نالائق کی کہانی اس کی زبانی

ڈیجیٹل گرو ہشام سرور کہتے ہیں کہ میرے والد پاکستان آرمی میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔ ہم چار بھائی تھے بہن نہیں تھی۔ میرا نمبر تیسرا تھا اور آرمی کے بہترین سکولز میں زیر تعلیم رہنے کے باوجود پڑھائی کے معاملے میں انتہائی نالائق تھا ۔سکول میں ہمیشہ بیک بینچر رہا۔ بیک بینچر رہنے کا مزا صرف ایک بیک بینچر ہی بہتر سمجھ سکتا کیونکہ پڑھائی کے علاوہ انھوں نے سب کچھ کرنا ہوتا تھا ۔ وہاں بیٹھ کر میں ٹیچرز کے بہترین سکیچ ڈیزائن کرتا تھا۔ اچھے ٹیچرز کے دھڑ پر اچھا فیس لگاتا اور جو ٹیچرز ناپسند تھے ان کو مونسٹر بنا دیتا تھا۔ ہر امتحان کے بعد والد صاحب سے بھرپور بےعزتی اور مار پڑنا لازمی امر ہوا کرتا تھا۔

1992 میں جب کرکٹ ورلڈ کپ شروع ہوا اس وقت میرے میٹرک کے امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ میں نے اعلان کیا کہ ورلڈ کپ چار سال بعد ہوتا ہے اس لیے اس کا ہر میچ میں نے ضرور دیکھنا ہےاور امتحان چونکہ ہر سال ہوتا ہے تو یہ اگلے سال بھی دیا جا سکتا ہے۔ میرے اس فیصلے پر والد صاحب نے کیا ردعمل دیا ہوگا وہ آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔بہرحال ان کی ڈانٹ ڈپٹ اور خوف کے زیر اثر جیسے تیسے مرتا کیا نہ کرتا، مجبوراً پیپرز دینے ہی پڑے۔ جس دن بائیولوجی کا پریکٹیکل تھا اس دن پاکستان کا ورلڈ کپ فائنل میچ تھا۔ میں نے بہت کہاکہ میرا پاس ہونا بہت مشکل ہے میرے پیپرز ہی اچھے نہیں ہوئے لیکن والد صاحب کی ڈانٹ اور مار نے پریکٹیکل دینے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان میچ جیت گیا لیکن والد صاحب نے سارا دن مجھ سے بات نہیں کی۔

میٹرک کے رزلٹ سے پہلے والد صاحب ریٹائر ہوگئے اور ہم آبائی گھر راولپنڈی شفٹ ہوگئے۔ میٹرک میں بمشکل پاسنگ مارکس سے پاس ہوا اور حسب معمول والد صاحب نے خوب بےعزتی کی۔ فوجیوں کیلیے مخصوص نشستوں پر جب کالج میں داخلہ ہوا اور مجھے زبردستی ریاضی ، شماریات اور اکنامکس کی تعلیم حاصل کرنے پر لگا دیا گیا۔ والد صاحب واپڈا کی ملازمت کیلیے دوسال کے معاہدہ پر لاہور چلے گئے اور میں حسب سابق وقت ضائع کرنے لگا۔ پڑھائی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لہذا سکول کی طرح پچھلے بینچز پر بیٹھ کر اسی طرح ٹیچرز کے سکیچ بناتا رہا۔

رودھو کر بہت کم نمبرز کے ساتھ ایف اے کیا تب والد صاحب اپنی ملازمت کے دوسال مکمل کرکے راولپنڈی واپس آگئے ۔ اور ایک چھوٹا سا کلینک نما ہاسپٹل بنا لیا اور مجھے حکم ملا کہ ان کے ساتھ وہاں ان کی ہاتھ بٹایا کروں۔ کلینک پر جانے سے میری انتظامی اور کاروباری صلاحیتیں اجاگر ہوئیں۔ اب مزید تعلیم کیلیے بی کام میں ایڈمشن لیا ۔یہاں مجھے اندازہ ہوا کہ یہ وہ سبجیکٹ ہیں جن میں مجھے دلچسپی ہے اور میں زندگی میں پہلے مرتبہ دل لگا کر پڑھنے لگا۔ بی کام میں بہترین نمبروں سے کامیابی حاصل کی تو پہلی بار۔ والد صاحب کچھ مطمئن نظر آئے۔

اب مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ مجھے تعلیم مکمل کرنے کیلیے MBA لینا میں داخلہ ہے۔ والد صاحب نے مجھے ایک کمپیوٹر لے کر دیا تھا اس میں مجھے بہترین گرافکس بنانے کا موقع ملا۔ان دنوں میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک بک سٹال پر گیا تو وہاں ایک میگزین دیکھا جس میں دنیا کے امیر ترین آدمی مائیکرو سافٹ کے مالک بل گیٹس کی کہانی تھی، جس نے دنیا کو ونڈوز 95کے ذریعے گرافکس انٹر فیس سے متعارف کروایا تھا۔ میں اپنے جیب خرچ کو فوربز اور فارچون جیسے میگزین پر خرچ کرنے لگا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ MBAکے آخری سمسٹر میں فوٹو شاپ پر بروشر وغیرہ بنایا اور پیسے کمانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور آخری سمسٹر کی فیس جزوی طور پر اپنی کمائی سے ادا کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ملازمت شروع کی اور اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن ارننگ بھی کرتا رہا۔ رات دیر تک کام کرنے کی وجہ سے اکثر آفس دیر سے پہنچتا۔ آخر ایک دن کمپنی مالک کے ساتھ سخت کلامی ہوئی اور ملازمت کو ہمیشہ کیلیے خیر باد کہ دیا اور اپنے آفس کا آغاز کیا۔ یہ شادی سے دو ماہ پہلے کی بات ہے جب میں نے اپنا فری لانسنگ کا کام شروع کیا۔

سخت محنت اور لگن سے کام کرنے کے کچھ عرصے بعد میں تیرہ ملین لوگوں میں سے واحد پاکستانی بن گیا تھا جو مسلسل گیارہ ماہ گرو ڈاٹ کام کے ہال آف فیم میں رہا۔ اس نے مجھے پیسے کمانے سے زیادہ سکون دیا۔ جب یہ بات میں نے اپنے والد کو بتائی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری والدہ کہتی تھیں دنیا کو وہ لوگ بدلتے ہیں جو دیوانے ہوتے ہیں مجھے یقین تھا کہ تم ضرور کامیاب ہو گے۔ میں نے اپنی زندگی میں عروج وزوال سردی گرمی، اچھا برا دونوں دیکھے۔ میں نے سیکھا کہ جب آپ ہارتے ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں اور پھر ان غلطیوں سے سبق حاصل کرتے تو اور زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں ۔

اپنے عروج کے زمانے میں میں ایک بار گھوڑے سے گرا اور میری کمر میں شدید چوٹ آگئی اور میں کچھ عرصے کیلیے بیڈ ریسٹ پر چلا گیا۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ اگر اللہ نے مجھے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا تو اپنی سکلز اور مہارات دوسروں کو سکھانے میں لگا دوں گا۔ صحت مند ہونے کے بعد میں نے فری لانسنگ سکھانے کی ویڈیوز بن کر یوٹیوب پر اپلوڈ کر دیں۔ ان کو اتنی پذیرائی ملی کہ مجھے ڈی جی سکلز پروگرام میں ٹرینر منتخب کر لیا گیا جس میں دس لاکھ پاکستانیوں کو ڈیجیٹل سکلز سکھائی جا رہی ہیں۔ آج میں دوسروں کو رزق کمانے میں مدد کر رہا ہوں اور میرا معاملہ اللہ کے ہاں بہترین چل رہا ہے۔ آپ دوسروں کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ آپ پر رزق کے غیبی دروازے کھول دیتا ہے۔ آپ کو زندگی کا مقصد سمجھ آجائے اور اپنے کیا، کیوں اور کیسے کو واضح کر لیں تو زندگی شاندار بن جاتی ہے ۔ شکر گزاری کا طرز زندگی اپنانا ہی اصل زندگی کا شعور ہے اور شکر گذاری کا بہترین مطلب دوسروں میں تقسیم کرنا ہے۔

میں اپنی زندگی کی جدوجہد بلھے شاہ کی اس شاعری کے ذریعے بیان کرنا چاہوں گا۔

چڑھدے سورج ڈھلدے دیکھے
بجھےدے دیوے بلدے دیکھے
ہیرے دا کوئی مل نہ جانے
کھوٹے سکے چلدے ویکھے
جناں دا نہ جگ تے کوئی
اووی پتر پلدے دیکھے
اودی رحمت دے نال بندے
پانی تے چلدے ویکھے
جنہاں قدر نہ کیتی رب دی
ہتھ خالی او ملدے ویکھے
کئی پیراں تو ننگے ویکھے
سر تے لبھن چھاواں
مینوں داتا سب کچھ دتا
میں کیوں نہ شکر مناواں

For more information about Hisham Sarwar visit his blog and click on picture.

 


https://www.beingguru.com