قرآن ہی ہدایت ہے!

دس منٹ میں 16 قرآن پاک اور ایک ہزار آیات کا ثواب

یہاں ان چھوٹی چھوٹی  سورتوں کے فضائل ذکر کیے جاتے ہیں جن کا پڑھنا نہایت آسان ہے اور تھوڑے سے وقت میں انھیں پڑھا جا سکتا ہے،لیکن ان کا اجر وثواب بہت زیادہ ہے،البتہ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ پورا  قرآن پڑھنے کی جو فضیلت ہے اس کی برابری نہیں ہو سکتی،جس ذات بابرکات نے ان چھوٹی چھوٹی سورتیں کی اتنی فضیلت رکھی ہے وہ ذات پورا قرآن پڑھنے پر کتنا اجر دے گی،اس لیے قرآن پاک کی تلاوت کو معمول بنانا ایک مسلمان پر لازم ہے،اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے اجر وثواب سمیٹنے کے لیےان مذکورہ سورتوں کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔

تین مرتبہ سورہ فاتحہ  پڑھنے کا ثواب دو قرآن  پڑھنے کے برابر ہے

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“فاتحة الكتاب تعدل ثلثى القران”(تفسیر مظہری،12/1)

ترجمہ:”سورہ فاتحہ قرآن کے دو تہائی کے برابر ہے”۔

“بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُستَقِيمَ

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ”۔

 

تین مرتبہ سورہ اخلاص  پڑھنے کا ثواب ایک قرآن  پڑھنے کے برابر ہے

رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْآنِ”(بخاری،رقم:5013)

“اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں  میری جان ہے یہ (سورہ اخلاص) قرآن

کے ایک تہائی کے برابر ہے”۔

“قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ

             يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ” (4)

ایک اور روایت میں ہے۔

“عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

لِأَصْحَابِهِ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ القُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ؟» فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ

وَقَالُوا: أَيُّنَا يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:اللَّهُ الوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ القُرْآنِ”

                  (بخاری،رقم:5015)

“حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے

فرمایا:کیا تم میں سے ہر شخص رات کو قرآن کا ایک تہائی نہیں پڑھ سکتا؟یہ بات صحابہ کو مشکل

لگی اور انھوں نے عرض کی،یا رسول اللہﷺ!ہم میں سے کس کی یہ طاقت ہے؟توآپﷺ

نے فرمایا:”قل ھو اللہ احد “قرآن کا ایک تہائی ہے”۔

سورہ اخلاص سے محبت جنت کا ذریعہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ: (قُلْ هُوَ

الله أحد)قَالَ: إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ “(مشکاۃ،رقم:2130)

ترجمہ:”ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ! میں اس سورۃ (قُلْ هُوَ الله أحد)

کے ساتھ محبت کرتا ہوں،آپﷺ نے فرمایا: تیری اس سورۃ کے ساتھ محبت تجھے جنت

میں داخل کر ے گی”۔

دس مرتبہ سورہ اخلاص سے جنت میں ایک محل

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ قَرَأَ (قل هُوَ الله أحد)عشر مَرَّات بني لَهُ بِهَا قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَ عِشْرِينَ

مَرَّةً بُنِي لَهُ بِهَا قَصْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ بِهَا ثَلَاثَةُ قُصُورٍ فِي

الْجَنَّةِ» . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا لَنُكَثِّرَنَّ

قُصُورَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَوْسَعُ من ذَلِك»

(مشکاۃ،رقم:2185)

ترجمہ:”جو شخص دس مرتبہ (قل هُوَ الله أحد)پڑھتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا

جاتا ہے،اور جو بیس مرتبہ پڑھتا ہے اس کے لیے دو محل جنت میں بنا دیے جاتے ہیں اورجو تیس

مرتبہ پڑھتا ہے اس کے لیے تین محل جنت میں بنا دیے جاتے ہیں۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے

عرض کی اللہ کے رسولﷺ !تب تو ہم بہت سے محلات لے لیں گے،تو رسول اللہ ﷺ نے

فرمایا : اللہ اس سے بھی زیادہ وسعت رکھنے والا ہے”۔

یٰس پڑھنے پر دس قرآن پاک کا ثواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا، وَقَلْبُ القُرْآنِ يس، وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا

                   قِرَاءَةَ القُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ”(ترمذی،رقم:2887)

ترجمہ:”ہر چیزکا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورہ یٰس ہے،جو شخص سورہ یٰس پڑھتا

ہے اس کے پڑھنے پر اللہ اس کے لیے دس قرآن پاک کا ثواب لکھ دیتے ہیں”۔

دن کے شروع میں سورہ یٰس پڑھنے پر سارے دن کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں

مَنْ قَرَأَ (يس)فِي صَدْرِ النَّهَارِ قضيت حَوَائِجه(مشکاۃ،2177)

ترجمہ:”جو شخص دن کے شروع حصے میں سورہ یٰس پڑھتا ہے اس کی (دن بھر کی)

ضروریات پوری کر دی جاتی ہیں”۔

سورہ یٰس پڑھنے پرگناہ معاف

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ قَرَأَ (يس)ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبه فاقرؤوها عِنْدَ

   مَوْتَاكُمْ”(مشکاۃ،رقم:2178)

ترجمہ:”جس نے اللہ کی رضا کی خاطر سورہ یٰس پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے

ہیں ،لہٰذا تم اسے اپنے مردوں کے پاس پڑھا کرو”۔

دو مرتبہ “سورہ زلزال “پڑھنے پر پورے قرآن کا ثواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ قَرَأَ إِذَا زُلْزِلَتْ عُدِلَتْ لَهُ بِنِصْفِ القُرْآنِ”(ترمذی۔رقم:2893)

ترجمہ:”جس شخص نے “ إِذَا زُلْزِلَتْ “پڑھی تو یہ اس کے لیے آدھے قرآن کے برابر ہے”۔

“إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا (1) وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (2) وَقَالَ

الْإِنْسَانُ مَا لَهَا (3) يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا (4) بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى

 لَهَا (5)يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ (6) فَمَنْ يَعْمَلْ

مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (8)

چار مرتبہ “سورہ الکافرون “پڑھنے پر پورے قرآن کا ثواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ قَرَأَ قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ عُدِلَتْ لَهُ بِرُبُعِ القُرْآنِ”( ترمذی۔رقم:2893)

ترجمہ:”جس شخص نے سورہ” قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ “پڑھی تو اس کے لیے ایک چوتھائی

قرآن کے برابر ہے”۔

 

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنْتُمْ

عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ (4) وَلَا أَنْتُمْ

              عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (6)

چار مرتبہ “سورہ  إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ “پڑھنے پر پورے قرآن کا ثواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفَتْحُ؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «رُبُعُ القُرْآنِ»

                   (ترمذی،رقم:2895)

ترجمہ:”کیا آپ کےپاس “ہے؟ صحابی نے عرض کی ،کیوں نہیں؟وہ تو ہے،آپﷺ

نے فرمایا: وہ قرآن کا چوتھائی ہے”۔

 

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (1) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ

             أَفْوَاجًا (2) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (3)

 

“سورہ  أَلْهَاكُمُ التكاثر “پڑھنے پرایک ہزار آیات پڑھنے   کا ثواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ

يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كل يَوْم؟ قَالَ: ” أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ: (أَلْهَاكُمُ

   التكاثر)۔(مشکاۃ،رقم:2184)

ترجمہ:”کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ ہرروز وہ ایک ہزار آیات

پڑھا کرے؟صحابہ نے عرض کی کہ کون ہرروز ایک ہزارآیات پڑھنے کی طاقت رکھتا ہے؟

تو آپﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی (أَلْهَاكُمُ التكاثر)پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا؟”۔

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (3)

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (4) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (5) لَتَرَوُنَّ

الْجَحِيمَ (6) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (7) ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ

            النَّعِيمِ (8)

جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی رکاوٹ نہیں

ہر فرض نماز کے آیۃ الکرسی پڑھنے پر جنت کی بشارت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا

                   أَنْ يَمُوتَ”(السنن الکبرٰی،رقم:9848)

ترجمہ:”جو شخص ہرفرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے اس کے لیے موت کے علاوہ جنت

میں جانے سے کوئی رکاوٹ نہیں”۔

 

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي

السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ

إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا

              وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (255)