بچوں کی معاشرتی اور اخلاقی تربیت

تمام والدین یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے بچے بہادر ہوں، خود اعتماد ہوں اور ان کی بہترین اخلاقی اور معاشرتی تربیت ہو۔ اس کیلئے وہ بہترین سکول کا انتخاب بھی کرتے ہیں اور بچوں کو ہر ممکن سہولت بہم پہنچانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔  بچوں کی تربیت میں سب سے زیادہ اہم اور موثر کردار والدین کا ہی ہوتا ہے۔ اگر والدین شروع ہی سے بچوں کی تربیت کیلئے چند اصول بنا لیں تو وہ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں۔ والدین کی رہنمائی کیلئے، اچھی تربیت اور بچوں کے اندر اعتماد پیدا کرنے  کے حوالے سے چند نکات پیش خدمت ہیں۔

ٹائم ٹیبل
کسی بھی بچے کی غلط عادات کو سدھارنے کیلئے عموماً ہم ہاسٹل کی مثال دیتے ہیں۔ ضدیںاور بگڑے ہوئے  بچوں سے کہا جاتا ہے کہ ہم تمہیں کسی ہاسٹل والے سکول میں داخل کروائیں گے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں ٹائم ٹیبل کی پابندی ہوتی ہے، وقت پر سونا، وقت پر جاگنا، مخصوص اوقات میں کھیلنا اور پڑھنا ہوتا ہے۔ اس طرح کچھ عرصہ ٹائم ٹیبل کی پابندی کرنے سے انسان کی کامیابی کے چانسز بڑھتے ہیں۔ جن گھروں میں دیر سے سونے اور صبح لیٹ اٹھنے کی عادات ہوتی ہیں وہاں سستی کاہلی اور بیماریوں کا راج ہوتا ہے۔

غلطی پر معافی مانگنا
بچوں سے کسی غلط کام پر معافی طلب کرنا اور سوری کروانا بعض اوقات بہت مشکل ہوتا ہے۔ جب والدین اس سے کسی غلطی پر سوری نہیں کرواتے تو اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس نے کوئی غلط کام کیا ہے اور اس پر اسے معذرت کرنی چاہیے، اس طرح وہ غلطی پر غلطی کرتا چلا جاتا ہے۔ معافی مانگنے سے انسان کے اندر سے انا کا عنصر نکل جاتا ہے۔ بظاہر تو یہ بہت چھوٹی چیز لگتی ہے لیکن اس کا بچے کی نفسیات اور شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔

شکریہ ادا کرنا
حدیث مبارکہ ہے “من کم یشکرالناس کم یشکراللہ”۔
ترجمہ: جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔
ہر بچے کو شکریہ ادا کرنے کی عادت ڈالنا بہت ضروری ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ والدین بھی اس کا شکریہ ادا کریں۔ جب بھی وہ کوئی اچھا کام کرے کسی کی مدد کرے، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹائے تو اس کا شکریہ ضرور ادا کریں۔ اس طرح یہ عادت بچوں میں پیدا کی جا سکتی ہے۔

اچھا بولنا سکھانا
بچہ ماں کی گود سے بولنا سیکھتا ہے۔ جو مائیں شروع سے ہی بچوں کو اچھا بولنے کی تربیت دیتی ہیں ان کے بچوں کے اخلاق اور آداب دوسرے بچوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر ان کو ہمیشہ آپ کہہ کر پکارا جائے تو وہ بھی دوسروں کو ہمیشہ آپ ہی کہے گا۔ اگر گھر میں والدین سے برے الفاظ سنے گا تو وہ بھی ویسے ہی الفاظ استعمال کرے گا۔

گھریلو کاموں میں شامل کرنا
کچھ والدین بچوں کو اس لیے گھر کے کاموں میں شامل نہیں کرتے کہ یہ ابھی بچہ ہے یا یہ کام خراب کر دے گا۔ بعد میں جب اس کی کوئی کام نہ کرنے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے تو پریشان ہو جاتے ہیں۔ اپنی چیزوں جیسے کتابیں، کھلونے اور کپڑے وغیرہ کو خود سنبھالنا، سکول بیگ کو خود ترتیب لگانا بچوں کو ضرور سکھانا چاہیے۔ خاص طور پر بچیوں کو تو ضرور گھر کے کاموں میں شامل کرنے چاہیے تاکہ مستقبل میں پریشانی نہ ہو۔ جب گھر میں مہمان آئیں تو دسترخوان لگانا، برتن رکھنا، پانی کا انتظام کرنا، کھانے کے بعد برتن اکٹھے کرنا ان کو واپس کچن میں پہنچانا اور دستر خوان سمیٹنا، یہ سارے مراحل بچوں سے بار بار کروانے چاہیے۔

تقریبات اٹینڈ کروانا
مختلف تقریبات اور سیمینار وغیرہ میں بچوں کو ساتھ لے کر جائیں ان کو اپنے دوستوں رشتے داروں سے متعارف کروائیں ۔ مختلف شخصیات سے ملائیں اس طرح وہ نئی چیزیں بھی سیکھیں گے اور ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہو گا۔ جب آپ ان کو کہیں ساتھ لے کر جائیں تو  اچھی اور بری چیزوں میں فرق بتاتے جائیں۔ جو والدین بچوں کو اس لیے کہیں ساتھ لے کر نہیں جاتے کہ یہ شرارت اور بدتمیزی کریں گے،  ان کے بچے خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، دوسروں کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں اور زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

مہمان نوازی سکھانا
حدیث مبارکہ ہے کہ مہمان  بعد میں گھر پہنچتا ہے اس کا رزق پہلے ہی  اس گھر میں عطا فرما دیا جاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کھانے کا حساب نہیں لیتے جس میں کوئی چھوٹا بچہ شامل ہو، جس کھانے سے انسان روزہ رکھے یا روزہ افطار کرے یا جس میں کوئی مہمان شامل ہو۔ مہمان نوازی تو مومن کی شان ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انتہا کے مہمان نواز تھے۔
بچوں کے اندر مہمان نوازی کی صفت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ والدین خود بھی مہمان نواز ہوں۔
بچوں کو سکھائیں کہ جب مہمان آئیں تو
ان کو سلام کریں۔
ان کو مہمان خانے یا گھر کے بہترین کمرے اور جگہ پر بٹھائیں۔
گرمی کے موسم میں شربت پلائیں اور سردی میں چائے پیش کریں۔
گرمی کا موسم ہو تو پنکھا یا اے سی چلائیں۔
رخصت کرتے وقت خداحافظ کہیں اور دروازے تک چھوڑنے کیلئے جائیں ۔

خرید و فروخت، پیسے کا لین دین کروانا
بچوں کو شروع سے ہی پیسے کا لین دین اور خرید و فروخت کا طریقہ سکھانا چاہیے۔ 5 یا 6 سال کی عمر سے ان کو مارکیٹ یا منڈی میں ساتھ لے جا کر سودا کرنے اور پیسے کی ادائیگی کا طریقہ بتائیں۔ چیزوں کی قیمتیں دیکھنے اور بقایا پیسے لینے کا طریقہ کار سمجھائیں۔ پھر جیسے جیسے  بچہ بڑا ہوتا جائے اس کو  اپنے طور پر خریداری کرنے کی اجازت دیں اور خریداری کی کامیاب تکمیل پر اس کی تعریف کریں۔ اس سے اس کی خود اعتمادی میں بہت اضافہ ہو گا۔