پریشان ہونا چھوڑیں جینا شروع کریں


یہ ڈیل کارنیگی کی کی شہرہ آفاق کتاب ہے جس میں مصنف نے اپنی ابتدائی زندگی کی مشکلات کا ذکر کیا۔ غربت کی زندگی گزارتے ہوئے انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے ان کی زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا۔ شخصی تعمیر و ترقی کے لحاظ سے اس کتاب میں دی گئی مثالیں اور واقعات کو آج بھی موٹیویشنل اسپیکر اپنی تقاریر میں سناتے ہیں ۔ اس کتاب میں ڈیل کارنیگی کی تعلیم بالغاں کی جماعت میں شامل افراد کی سچی کہانیاں شامل ہیں۔ ڈیل کارنیگی کو اپنے کام سے بے حد پیار تھا اس بات کو اساس بنا کر یہ کتاب لکھی گئی۔

یہ کتاب انسان کوعمل پر ابھارتی اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی عملی طریقے سکھاتی ہے۔ تھامس کارلائل نے جب یہ 23 الفاظ پڑھے کہ زندگی کا مقصد یہ دیکھنا نہیں کہ دور دھند لکوں میں کیا نظر آتا ہے بلکہ جو سامنے موجود ہو اسے بہترین طریقے سے سرانجام دینا ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد جب وہ ایک نوجوان تھے اور طب کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔زندگی میں بھرپور محنت اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر بن کر سر کا خطاب حاصل کیا۔
ڈاکٹر آسکر کہتے ہیں کہ مستقبل کے لیے تیار ہونےکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی ساری ذہانت ،قوت و توانائی اور جوش و خروش سے آج کے کام کو بہترین طریقے سے سر انجام دیں۔ امریکہ کا امیر البحر کہتا ہے کہ اگر کوئی جہاز ڈوب جائے تو میں اسے واپس نہیں لا سکتا اور اگر کوئی جہاز ڈوب رہا ہومیں اسےبچا نہیں سکتا اس لئے ہمیں ماضی کے متعلق پریشان ہونے کی بجائے مستقبل کے مسائل کو حل کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

ایک نوجوان فوجی جس کی صحت دن بدن خراب ہورہی تھی ۔ اس کو ڈاکٹر نے بتایا کہ تمہاری تکالیف ذہنی ہیں تم ایک وقت میں ایک کام کیا کرو اور خدا پر ایمان رکھتے ہوئے کرو۔ اس مشورے پر عمل کرنے سے اس کی صحت بہت جلد بحال ہوگئی۔ ایک نوجوان انجینئر نے گیس کی صفائی کی مشین نصب کی جس کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں تھی کمپنی کو ہونے والے نقصان کے خیال سے اس کی نیند اڑ گئی اور اس کی صحت بھی تباہ ہونے لگی ہےتب اس نے سوچا ،
بدترین کیا ہوسکتا ہے؟
اگر کوئی بدترین ہونے والا ہے تو میں اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں؟
اور سکون اور اطمینان سے بدترین کو بہترین بنانے کی کیسے کوشش کرنی ہے؟ ان سوالات کے ذریعے نہ صرف اس کی صحت بحال ہوئی بلکہ آئندہ بہت سے لوگوں کو بھی رہنمائی بھی ملی۔

پریشانی اورتفکرات سے بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ تفکرات کے چھٹکارے کے لئے ہمیں اپنے آپ کو زیادہ مصروف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اسی طرح قانون اعتدال کی رو سے دیکھا جائے کہ اس چیز کے واقع ہونے کے کتنے امکانات ہیں ،جس پر ہم پریشان ہو رہے ہیں تو پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔

ہمیں اپنی بہترین صحت کے لیے ناگزیر چیزوں کوچھوڑنا پڑتا ہے اور اپنے اندر قوت بر داشت پیدا کرنی ہوتی ہے۔ جو چیز جس قدر پریشانی کے قابل ہو اس سے زیادہ اسے اہمیت نہیں دینی چاہیے اور برادے کو چیرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہئے۔

اپنے آج کو بہترین بناتے ہوئے اپنے جسم کی حفاظت ورزش کرنی ضروری ہے ۔ کسی قسم کی نفرت اور انتقام کو دل میں جگہ نہیں دینی ہوتی اس سے سب سے زیادہ نقصان خود کو ہوتا ہے اور یہ بہت ہی آسان ہوتا ہے ۔دنیا میں بہت سے افراد نے اپنی زندگی شکرگزاری کے ذریعے تبدیل کی۔ دوسروں سے شکرگزاری کی توقع نہ رکھیں ۔ اپنی خوشی اور اطمینان کے لیے دوسروں پر احسانات کرتے رہنا چاہیے۔زحمتوں کی بجائے نعمتوں کا شمار ضروری ہے ۔دعا عمل کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔

تنقید و نکتہ چینی کو حوصلے سے برداشت کرنا ہوتاہے کیونکہ کوئی مردہ کتے کو ٹھوکر نہیں مارتا۔ ہمیں اپنی حماقتوں کا ریکارڈ رکھتے ہوئے ان پر غور و فکر کرنا چاہیے ۔ نکتہ چینی اصل میں ہماری قابلیت کا اعتراف ہوتا ہے۔ تھکان اور پریشانی سے بچنے آپ کے لئے اپنے آپ کو ریلیکس رکھنا بہت ضروری ہے۔ عورتوں کو اپنی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی قسم کی تھکان اور کشیدگی سے پرہیز کرنا ہوگا ۔

ترتیب کائنات کا پہلا اصول ہے سوچنے کی صلاحیت اور کاموں کی اہمیت کے مطابق ترتیب سے کرنے کی صلاحیت کسی بھی ملازمت کے لئے اہم ترین صلاحیت ہے۔ ہمیں بوریت سے بچنے کے لئے وہی کام کرنا چاہیے جس میں دلچسپی ہو۔ کام میں دلچسپی سے ملازمت میں ترقی کرنا یقینی ہوجاتا ہے۔ بے خوابی کا مرض ہو تو اس بارے پریشان ہونے کی بجائے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے مزید مطالعہ کے ذریعے جسم اور دماغ کو تھکایا جائے تو نیند حاصل ہو سکتی ہے۔

ہر کام کو کھیل سمجھ کر کیا جائے اور لطف اٹھایا جائے تو لمبے عرصے تک روزانہ 18 گھنٹے کام کیا جا سکتا ہے۔ روز مرہ کے کام سے نفرت پریشانیوں کو جنم دیتی ہے۔ اس اصول کے تحت ایک نجی کمپنی کے مالک کا بیٹا ہوائی جہاز کمپنی کا پریزیڈنٹ بن گیا ۔ صحت مند زندگی کے لیے مصروف رہنا بہت اہم ہے۔ جب ایک کام سے دوسرے کام میں شفٹ ہوں تو پہلے کام کے مسائل ذہن سے نکال دینے چاہیے اور آفس کے مسائل آفس میں چھوڑ کر جا ئیں ۔ طویل صحت مند زندگی کیلیے پرسکون رہنا اور پریشانیوں سے دور رہنا ضروری ہے اور پریشانیوں کا بہترین تریاق ورزش ہے

یہ بھی پڑھیں۔

عظیم راز (رہونڈا بائرن کی کتاب کا خلاصہ)