واضح ہدف کی اہمیت

راجر بینسٹر جو چار منٹ سے کم وقت میں ایک میل دوڑنے والا پہلا آدمی ہے۔ 1952 میں ماہرین کا خیال تھا کہ چار منٹ سے کم وقت میں ایک میل دوڑنا انسان کے لیے جسمانی طور پر ناممکن ہے۔ تاہم، بینسٹر کا خیال تھا کہ یہ ممکن ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایک مقصد مقرر کیا۔

بینسٹر نے جسمانی اور ذہنی تیاری دونوں پر توجہ دیتے ہوئے اپنے مقصد کے لیے تربیت شروع کی۔ اس نے ایک تربیتی نظام تیار کیا جس میں جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ وقفہ کی تربیت شامل تھی ۔وہ مختصر فاصلے کے لیے تیز دوڑتا تھا اور پھر اس عمل کو دہرانے سے پہلے مختصر آرام کرتا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو چار منٹ سے کم میں ایک میل دوڑنے کیلیے اپنے تصور پر بھی بھرپور توجہ دی۔

6 مئی 1954 کو بینسٹر نے اپنا ہدف حاصل کیا اور تاریخ میں پہلی بار چار منٹ کی رکاوٹ کو توڑتے ہوئے 3 منٹ اور 59.4 سیکنڈ میں ایک میل دوڑا۔ بینیسٹر کے کارنامے نے نہ صرف یہ ثابت کیا کہ ناممکن ممکن ہے بلکہ اس نے ایک مقصد طے کرنے اور اس کی طرف عزم اور توجہ کے ساتھ کام کرنے کی طاقت بھی ظاہر کی۔ بینسٹر کی کہانی اہداف کے تعین کی اہمیت، خود پر یقین، اور اسے حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرنے کی آمادگی کو ظاہر کرتی ہے جسے دوسرے ناممکن سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اکثر جسمانی اور ذہنی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کہ واضح ہدف اور اس کے حصول کا تصور کامیابی حاصل کا ایک طاقتور ذریعہ ہو سکتا ہے۔

واضح ہدف کے بغیر زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہے۔ کیا آپ ہاکی یا فٹبال کے کسی ایسے گراؤنڈ کا تصور کر سکتے ہیں جہاں گول کرنے کیلیے گول پوسٹ ہی موجود نہ ہوں۔ اسی طرح کرکٹ میں بعد میں کھیلنے والی ٹیم کے پاس ایک واضح ٹارگٹ موجود ہوتا ہے۔ دنیا کے اکثر ریکارڈ میکرز کے پاس پچھلے ریکارڈ کو بریک کرنے کا ایک مقصد موجود ہوتا ہے۔ اگر سب سے پہلے ریکارڈ بنانے والے کا سکور دیکھا جائے تو وہ موجودہ سکور سے بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ پہلی بار ریکارڈ بنانے والے کے پاس کوئی واضح ہدف نہیں ہوتا۔ جبکہ بعد میں آنے والے پہلے ریکارڈ کو بریک کرتے ہیں۔

بیسٹ سیلنگ کتاب تھنک اینڈ گرو رچ کے مصنف نپولین ہل کی بیس سالہ تحقیق جس میں اس نے بیس ہزار سے زائد لوگوں کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ان میں سے 95 فیصد لوگوں کے پاس زندگی کا کوئی واضح مقصد نہیں تھا جبکہ صرف 5 فیصد لوگ زندگی میں کامیاب ہوئے جن کے پاس اپنی زندگی کا مقصد اور منصوبہ موجود تھا۔ سیلز کے شعبہ میں ترقی کیلیے اہداف بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تمام سیلز کے متعلقہ افراد اپنے ٹارگٹ کے حصول کیلیے بھرپور محنت کرتے ہیں اور زیادہ تر اوقات میں وہ اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بینک اور دیگر شعبہ زندگی میں بھی اہداف کی اہمیت مسلمہ ہے۔

ہر کامیاب بزنس میں کسٹمرز کو ایک واضح ہدف کے ساتھ انگیج کیا جاتا ہے۔ کاریں تیار کرنے والی کمپنی اپنے ہر ڈیلر یا ایجنٹ کیلیے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کرتی ہیں اور تمام ڈیلرز اپنے مقررہ اہداف کو دئے گئے وقت میں مکمل کر لیتے ہیں۔ ایک کاشتکار اپنی زمینوں میں بیج لگاتا ہے۔ پھر اس کا بھرپور نگہداشت کرتے ہوئے زمین کو بروقت پانی اور کھاد وغیرہ ڈالتا ہے۔ کچھ عرصے کی محنت کے بعد وہ اپنی تیار شدہ فصل کو کاٹ کر اپنی محنت کا پھل حاصل کرتا ہے۔ واضح ہدف کے اس قانون کے تحت جب 100 کامیاب لیڈرز کا انٹرویو لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ہر کامیاب لیڈر کے پاس اپنا ایک مقصد اور گول موجود تھا جس کے حصول کی وہ جدوجہد کر رہا تھا۔

مائنڈ سائنسز کے ماہرین اور محققین کے مطابق انسانی دماغ ایک مقناطیس کی طرح کام کرتا ہے جب اس کے سامنے ایک واضح ہدف ہوتا ہے تو اس مقصد کے ساتھ ضروری چیزیں خود بخود جڑتی چلی جاتی ہیں اور انسان کامیابی کے سفر پر گامزن رہتا ہے۔ تمام دماغی ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگرواضح مقصد، یقین اور اعتماد کے ساتھ موجود ہو تو ہر ہدف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ہدف کے حصول کیلیے ضروری ہے کہ اس کو بالکل کلیئر الفاظ میں لکھ لیا جائے۔ انسان کا لاشعور مبہم چیزوں کو نہیں سمجھتا۔ جب دماغ کو صاف اور واضح مقصد مل جاتا ہے تو وہ ایک خاص عمل کے تحت لاشعوری دماغ میں پلانٹ کر دیتا ہے۔ جس طرح ایک کاشتکار اپنی فصل کی نشوونما کیلیے محنت و کوشش کرتا ہے۔ اسے آندھی اور طوفان سے بچانے کوشش کرتا ہے۔ غیر ضروری کڑی بوٹیاں تلف کرتا ہے۔اسی طرح دماغ میں لگائے گئے اس پودے کی بھی بہت احتیاط سے نگہداشت کی جاتی ہے۔ اس کو منفی جملوں کی بارش سے نہ بچایا جائے تو ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ دماغ میں لگائے گئے پودے کو مثبت جملوں اور ہدف کو حاصل کرنے کیلیے، درست منصوبہ بندی کے تحت مسلسل کیے جانے اقدامات کی کھاد ملتی رہے گی تو اس کا اصل فائدہ اٹھانا ممکن ہو گا۔

ایک فائنل اور واضح ہدف انسان کو آگے بڑھنے اور مقصد کو حاصل کرنے کی موٹیویشن دیتا ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں مسلسل آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ ایک طالبعلم کیوں پڑھنا چاہے گا جب اس کے اندر کوئی مقام حاصل کرنے کا جذبہ یا تعلیم کے ذریعے اپنی زندگی کو بدلنے مقصد ہی نہ ہو۔ ایک استاد اپنے شاگردوں پر کیوں محنت کرے گا اگر ان کو تبدیل کرنے کا مقصد ہی سامنے نہ ہو۔ حاصل کلام یہ کہ اگر آپ نے ابھی تک زندگی کا واضح مقصد نہیں بنایا تو دیر مت کریں آج ہی بنائیں اور اس کے حصول کی پلاننگ کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داری